محمد آصف کو ایک نہیں 2 بلے مارنے چاہیئے تھے: شعیب اخترنے حیران کن بات کہہ ڈالی

116

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بائولر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ بابراعظم کو تینوں فارمیٹس کا کپتان مقرر ہونے کے بعد اب خود کو منوانے کے لیے اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے۔ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں شعیب اختر کا کہنا تھا


وہ ذہنی طور پر 2005ء میں ریٹائر ہوچکے تھے، اگر آج کھیل رہے ہوتے تو سپیڈ گنز پر ان کی رفتار 170 کلومیٹر فی گھنٹا ہوتی، وقار یونس نے میرا رن اپ ٹھیک کروانے میں بہت مدد کی اور

وسیم اکرم نے ہر موقع پر مجھے بھرپور سپورٹ کیا، ہمیں آج کے نوجوان کرکٹرز کی سپورٹ کرنا ضروری ہے، ان کی خواہش ہے فرسٹ کلاس کرکٹرز زیادہ سے زیادہ کمائیں ،

اگر وہ پی سی بی کے سربراہ بنے تو تنخواہ نہیں لیں گے۔ شعیب اختر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 1993ء میں جب وہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں رہائش پذیر تھے تو وہاں کے

اردو بولنے والوں نے ان کی بہت مدد کی اور انہوں نےمہاجر لڑکوں کی وجہ سے ہی کرکٹ کھیلی۔ سیاست میں آنے کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں اليکشن لڑوں تو جيت جاؤں گا۔ شعیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ

ان کا ڈیبیو 1994ء میں ہوجانا چاہیئے تھا تاہم انہیں 1997ء تک انتظار کرنا پڑا، ورلڈ کپ 1999ء فائنل میں قومی ٹیم کی شکست کے بعد انہیں نیب نے بھی طلب کیا تھا۔ بھارتی کھلاڑیوں کی تعریف کرنے کے حوالے سے سوال پر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ

ہندوستان کے لیے میرے دل میں کوئی نفرت نہیں ہے، پاکستان کو میری ضرورت پڑی تو لائن آف کنٹرول پر ہوں گا۔ شعیب اختر کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2002ء ميں فکسرز کو ہوٹل کے کمرے ميں بند کرکے پیٹا،

فکسرز کی جانب سے انہیں گاڑيوں، گھر اور پيسوں کے علاوہ کپتانی کی بھی آفر کی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کرديا۔ دنیا کے تیز ترین فاسٹ بائولر کا کہنا تھا محمد آصف جیسا شاندار بائولرکرکٹ کی تاریخ میں کبھی نہیں آیا،

مجھے انہیں 2006ء میں ایک نہیں دو بلے مارنے چاہیئے تھے، پاکستان میں اس جیسا فاسٹ بائولر کبھی پیدا ہی نہیں ہوا ۔ میں نے 2006ء میں ایک بار اسے بیٹ سے مارا تھا۔ “

مجھے اس کے ساتھ اس کے ساتھ سلوک کرنے کے ساتھ یہ کام دو بار کرنا چاہئے تھا۔ اس سے پہلے ملک میں کبھی بھی ایسا ہنر پیدا نہیں ہوا تھا۔ سابق کرکٹر نے مزید کہا کہ سیالکوٹ سٹالینز کے فاسٹ بائولر 2006ء سے الٹی حرکتیں کررہے تھے،

وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ آصف اس وقت بھی میچ،فکسنگ میں ملوث تھا لیکن اس کا دھیان کھیل سے زیادہ دوسری چیزوں پر تھا، انہیں آصف کی ذاتی زندگی سے کوئی لینا نہیں لیکن

ان کے طرز عمل پر کافی مایوس تھے۔ شعیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد آصف سے معافی بھی مانگی لیکن آصف نے اس وقت کے کپتان شعیب ملک کے پاس جاکر الٹی میٹم دیا کہ یا تو اب ٹیم میں شعیب اختر رہے گا یا میں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2007ء میں کھیل کر وہ ذہنی طور پر تھکا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ شعیب اختر کے مطابق انہوں نے سابق انگلش آل راؤنڈر اينڈريو فلنٹوف سے کہا تم لڑکيوں کی طرح بائولنگ کرتے ہو، فلنٹوف 2005ء میں جب پاکستان آيا تو گن گن کرگينديں ماريں۔