پاکستانی کرکٹرمشہور ہونے سےقبل کیا تھے؟حیران کن تفصیلات سامنے آگئی

17

کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کر کٹ کی دیوانی قوم کی سرزمین ہے اور اس ملک میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے بعض اوقات درست رہنمائی ملتی ہے توگلی محلوں سے نکل کر بین الاقوامی سطح تک جا پہنچتا ہے-


پاکستان کرکٹ ٹیم کےبعض مایہ ناز کھلاڑیوں نے اپنا کیریر بنانے اور کامیابیاں حاصل کرنےسے قبل بہت سخت حالات کا سامنا کیا ہے- چند کھلاڑیوں نے مزدوریاں کیں اور

اپنی منزل تک پہنچےجبکہ بعض نے قابلِ ذکر اداروں میں ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی پورا کیا اور دنیا بھر میں اپنا اور پاکستان کا نام روشن کیا- ایسے ہی چند عظیم کھلاڑیوں کاذکر آج ہمارے اس آرٹیکل میں موجود ہے-

محمد یوسف

محمد یوسف کوقبولِ اسلام سے قبل یوسف یوحنا کے نام سے جانا جاتا تھا- محمد یوسف کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کا سربراہ ریلوے کاملازم تھا-

غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف ریلوے کالونی میں ہی رہائش پذیر تھے- جب وہ لاہور میں ایک درزی کی دکان میں کام کر تے تھے تو اس وقت 1990 میں ان کو

ایک مقامی میچ کے لیےمنتخب کیا گیا- محمد یوسف نے اپنے پہلے مقامی میچ میں سنچری اسکور کی- بعد میں یوسف پاکستان کےبہترین بلے باز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے-

سرفراز احمد

پاکستان کے بین الاقوامی ایک روزہ میچوں کے سابق کپتان سرفراز احمد پیشے کے اعتبار سےایک انجنئیر ہیں- سرفراز نے کراچی کی داؤد یونیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے

الیکٹرونکس میں گریجویشن کررکھی ہے- سرفراز نے کرکٹ شائقین کو پہلی مرتبہ اس وقت اپنی جانب متوجہ کیا جب وہ 2006 میں انڈر 19 کےکپتان تھے- 2007 میں انہیں بین الاقوامی ایک روزہ میچوں کے لیےوکٹ کیپر کے طور پر منتخب کیا گیا-

محمد عرفان

محمد عرفان اس وقت سب سےطویل القامت کھلاڑی ہیں- ان کا قد 7 فٹ 1 انچ ہے- پاکستان کرکٹ ٹیم جوائن کرنےسے قبل محمد عرفان پی وی سی فیکٹری کے لیے کام کیا کرتے تھے-

ان کی پیدائش ایک غریب فیملی ہوئی اور یہ ایک چھوٹےسے قصبے گگو منڈی میں رہا کرتے تھے- مزدور طبقے کے خاندان سے تعلق رکھنے والے محمد عرفان نے ورلڈ کلاس کرکٹ تک پہنچنےکے لیے بے انتہا محنت کی ہے-

انور علی

پاکستان کے آل راؤنڈر انورعلی نے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف ہونے والی سیریز میں قابلِ ذکر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے- انور علی کو اپنے خاندان کے ہمراہ انتہائی کم عمری میں

سوات کےایک گاؤں ذکا خیل سے کراچی کی جانب ہجرت کرنا پڑی- اور بہت کم عمری میں انور علی نے اپنے خاندان کو سپورٹ کرنے کے لیے مزدوری کرنا شروع کر دی-

یہ ایک موزے بنانے والی فیکٹری میں کام کرتےتھے جہاں انہیں روزانہ 150 روپے اجرت ملتی تھی- انور علی کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اپنی پہلی ہی کوشش میں مقامی کلب کے کوچ اعظم خان کی نظروں میں آگئےاور آج اس مقام پر ہیں-

جنید خان

پاکستان کے تیز رفتار باؤلر اور سپر اسٹار جنید خان کی سوشل میڈیا پر چند ایسی تصاویرموجود ہیں جس میں انہیں قالین فروخت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے- تاہم ان تمام تصاویر کےحقیقی ہونے کا

کوئی ثبوت موجود نہیں ہےاور یہ صرف ایک افواہ ہے- جنید خان کا خاندان تمباکو کے کاروبار کے حوالے سے جانا جاتا ہے- جنید خان صوابی سے ایف ایس سی کیا ہوا-

رمیز راجہ

کرکٹ کی دنیا کے عظیم کھلاڑی رمیز راجہ جو آج ایک مایہ ناز کمنٹیٹر بھی ہیں٬ بینک میں ملازم تھے- رمیز راجہ نےامریکن ایکسپریس نامی بینک کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیں-

ایم بی اے کرنےکے بعد یہ رمیز راجہ کی پہلی ملازمت تھی- رمیز راجہ نے لاہور کے ایچیسن کالج سے گریجویشن مکمل کیا اور اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اےکی ڈگری حاصل کی- لیکن انہوں نےکرکٹ کو ہی اپنے لیے منتخب کیا-