پاکستانی کرکٹرز کےمقبول ترین ورلڈریکارڈ، جس میں سےکچھ ٹوٹ گیے اورکچھ ابھی تک قایم ہیں

17

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
ہرکوئی جانتا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا کی ایک ایسی کرکٹ ٹیم ہے جس کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی- یہ ٹیم کھیل کےمیدان کب کیا کارنامہ انجام دے گی؟ اس کے بارےمیں کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا-


گزشتہ 9 سالوں کےدوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں- لیکن کچھ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کئی ایسےحیران کن عالمی اعزازات کی مالک ہے جنہیں حاصل کرنے کی خواہش دنیا کے

ہر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی میں موجود ہے-آئیے ہم آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ان ورلڈریکارڈز کے بارے میں بتاتے ہیں جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں-

امتیازاحمد پہلے ایسے وکٹ کیپر تھےجنہوں نے ڈبل سینچری اسکور کی-

وسیم باری پہلےایسے وکٹ کیپر تھے جنہوں نے ایک ہی ٹیسٹ میچ میں وکٹوں کے پیچھےسے 7 کیچ پکڑے- یہ میچ آکلینڈ میں منعقدا ہوا- کرکٹ کی تاریخ میں ایک ہی ٹیسٹ میچ میں 7 کیچ پکڑنے والے صرف 3 وکٹ کیپرہیں-

جاویدمیانداد کرکٹ کی تاریخ کے وہ واحد بلے باز ہیں جنہوں نےاپنے 50ویں اور 100ویں ٹیسٹ میچ میں ایک ایک سینچری اسکور کی-

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اوربہترین باؤلر وسیم اکرم کو اپنے ملک کے لیے 6 ریکارڈ قائم کرنے کا اعزازحاصل ہے- ان میں ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ اسکور(257)٬ سب سےزیادہ چھکے (12)٬ آٹھویں وکٹ پر

سب سےطویل پارٹنر شپ٬ ٹیسٹ میچز میں 13 بار مین آف دی میچ٬ مسلسل دو بار ہیٹ ٹرک اورایک روزہ اور ٹیسٹ میچ دونوں میں ہی دو دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کر نے کا ریکارڈ شامل ہے-

انضمام الحق نےاپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا جو کہ 184 رنز تھے- اس سےقبل ویسٹ انڈیز کے Gorden Grange کے پاس اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں 149 رنز بنانےکا ریکارڈ تھا جسے انضمام الحق نے توڑ دیا-

یاسرحمید وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنےپہلے ہی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سینچریاں بنائیں-

ماجد خان ان چار کھلاڑیوں میں سب سےپہلے نمبر پر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میچ میں دوپہر کے وقفے سےقبل ہی سینچریاں اسکور کر لی تھیں- ماجد خان نے 1976 میں نیوزی لینڈ سے ہونےوالے ایک ٹیسٹ میچ میں وقفے سے قبل 108 رنز بنائے-

سب سےکم عمر میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا اعزاز حسن رضا کے پاس ہے- انہوں نے جب اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تو اس وقت ان کی عمرصرف 14 سال اور 227 دن تھی-اس سے قبل بھی یہ اعزازپاکستانی کھلاڑی مشتاق احمد کے پاس تھا جنہوں نے اپناپہلا ٹیسٹ میچ 15 سال کی عمر میں کھیلا-

سال 1997 میں اظہر محمود اور مشتاق احمد نے 10ویں وکٹ کی پارٹنرشپ پر 151 رنز بنائے- تاہم یہ پرانےریکارڈ کے برابر اسکور تھا اس لیےریکارڈ ٹوٹ نہیں سکا-