اگرتمہارا جواب ہاں ہےتو مجھے بتادینا” شعیب ملک اور ثانیہ کے معاملات کیسےشادی تک پہنچے؟ ٹینس سٹار نےاندر کی بات بتادی

23

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
بھارتی ٹینس اسٹار اور پاکستان کے اسٹار آل راؤنڈر شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ شعیب ملک نے انہیں ایسے انداز میں شادی کے لیے پروپوز کیا تھا کہ وہ انہیں منع ہی نہیں کرسکیں۔


روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے سال 2010 میں پاکستان کے اسٹار آل راؤنڈر شعیب ملک کو اپنا ہم سفر منتخب کیا تھا۔ ثانیہ مرزا نے سرحد پار کرکٹر سے

شادی کیوں کی؟ اس بات کا انکشاف انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ ثانیہ مرزا نے پاکستانی اسپورٹس اینکر زینب عباس کو بتایا کہ شعیب ملک نے انہیں

جس طرح سے شادی کے لیے پرپوز کیا تھا وہ بے حد شاندار تھا، جس کے بعد وہ شعیب کو انکار نہیں کرسکیں۔ ثانیہ مرزا نے زینب عباس سے بات چیت میں بتایا کہ


کچھ مہینوں تک ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنے کے بعد شعیب ملک نے مجھے سیدھے کہہ دیا کہ وہ مجھ سے شادی کرناچاہتے ہیں۔ شعیب نے کہا کہ میں بھارت آکر تمہاری فیملی سے ملنا چاہتا ہوں۔ اگر تمہارا جواب ہاں ہے تو مجھے بتادینا۔

ٹینس سٹار نے کہا کہ مجھے شعیب ملک کی اس بات میں کافی سچائی نظر آئی۔ مجھے لگا کہ اس میں کوئی دکھاوا نہیں تھا، وہ ان کے سچے جذبات تھے جسے شعیب نے محسوس کیا اور مجھ سے اظہار کردیا۔

ثانیہ نے کہا کہ انہیں شعیب ملک کی یہی بات بے حد پسند آئی کیونکہ وہ دکھاوا نہیں کرتے۔ انہوں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مجھے پرپوز نہیں کیا جو کہ ان کا اسٹائل نہیں ہے۔ شعیب ملک بہت سادے ہیں۔

ثانیہ مرزا نے زینب عباس کے ساتھ انٹرویو میں مزید بتایا کہ انہیں شعیب ملک کی کس عادت سے سب سے زیادہ نفرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ


انہوں نے کہا کہ ہم دونوں کے رویے میں کافی فرق ہے اور خاص طور پر جب کسی بات پر بحث ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی ہماری کسی بات کو لے کر بحث ہوتی ہے، تو شعیب کھل کر بات نہیں کرتے، جو ان کے دماغ میں ہے اور دل میں ہے، وہ نہیں بولتے۔

مجھے ان کی اسی بات سے نفرت ہے، میں بہت،غصہ ہوجاتی ہوں اور دل کرتا ہے کہ کوئی چیز توڑ دوں اور شعیب سے کہوں کہ تم بات بول کر اس کو ختم کیوں نہیں کردیتے۔ ثانیہ نے بتایا کہ وہ بہت جلد غصہ ہوجاتی ہیں جبکہ شعیب ہمیشہ آرام سے بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جھگڑے کے وقت میں ان سے کہتی ہوں کہ تم کچھ بولو تو سہی اور وہ اپنے فون میں لگ جا تا ہے، میں بولتی رہتی ہوں لیکن شعیب پر کوئی اثر نہیں ہو تا۔