لالا کی شرٹ کا 10 نمبر ۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ کرکٹرز کی شرٹس کے پیچھےلکھے اِن نمبرز کا کیا مطلب ہوتا ہے؟جانیے

75

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
کرکٹ کا شوق رکھنے والے شائقین کھلاڑیوں کے کھیل اور اُن کی طرز زندگی کے بارے میں اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ کرکٹرز کی سرگرمیوں سے لے کر میدان میں وہ کس طرح اپنے کھیل کو سرانجام دیتے ہیں ان تمام تر چیزوں کے بارے میں کرکٹ کے مداح جاننے کا شوق رکھتے ہیں۔


آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کرکٹرز کی شرٹ کے پیچھے نام کے ساتھ ہندسے بھی موجود ہوتے ہیں جو ذہنوں میں سوال بھی پیدا کرتے ہیں کہ آخر اُن ہندسوں کا مقصد اور مطلب کیا ہوتا ہے؟

آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کھلاڑیوں کی اِسپورٹس شرٹس کے پیچھے نمبرز کا کیا مطلب ہوتا ہے اور یہ انہیں کون فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتائیں گے کہ اُن نمبرز کے لکھنے کا آغاز کب سے ہوا۔

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کرکٹ کا آغاز ٹیسٹ میچز سے ہوا اور پرانے وقتوں میں کرکٹ میں کچھ خاص قوانین اور ضابطے موجود نہیں تھے۔ کھلاڑی سفید رنگ کی سادہ سی کٹ زیب تن کئے میدان میں اترتے تھے

جن میں نا تو کوئی نمبرز درج ہوتے تھے اور نہ ہی آج کی طرح قمیض پر کوئی اِشتہاری ٹیگ پرنٹ ہوتا تھا۔ کرکٹ میں ایسا تقریباً ایک صدی تک جاری رہا۔

لیکن جس طرح آہستہ آہستہ کرکٹ کا کھیل آگے بڑھتا گیا ویسے ہی نئی چیزوں کی آمد ہوتی گئی۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ اییسے بھی کھلاڑی گزرے ہیں جو اپنے ناموں کے ساتھ اپنی شرٹ نمبرز سے بھی بے حد مقبول ہوئے۔ جس طرح


شاہد آفریدی اور سچن ٹندولکر دونوں کھلاڑیوں کی شرٹ کا نمبر 10 تھا اسی طرح دھونی کا نمبر 7 ، ہرشل گبس کا دو بار 00، رکی پانٹنگ کا 14 وغیرہ۔ ان نمبرز کا آغاز کب سے ہوا

کرکٹ کٹس پر ہندسوں کا آغاز سب سے پہلے سن 1996 میں ہوا جب ایک سیریز میں آسٹریلین بورڈ کی جانب سے کرکٹرز کی شرٹ کے پیچھے نمبر پرنٹ کئے گئے اور ہر کھلاڑی کی شرٹ پر

مختلف نمبرز درج تھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آخر ان ہندسوں کا کیا مطلب ہے حتیٰ کہ آئی سی سی نے بھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔ بعدازاں دیگر ٹیموں نے بھی اس طرزِ عمل کو اپنایا۔

آئی سی سی نے آفیشیلی( قاعدے کے مطابق) کرکٹرز کی ٹی شرٹ پر نمبرز کا آغاز سنہ 1999ء کے ورلڈ کپ سے کیا۔ اور پھر یوں ہوا کہ ہندسے ترتیب سے لکھے جانے لگے

اس کے بعد پہلا ہندسا کپتان کی شرٹ پر لکھا گیا جبکہ نمبر 2 کا ہندسا نائب کپتان کی شرٹ پر لکھا گیا اسی طرح جو کھلاڑی جتنا سینئر ہوتا اسی بنیاد پر نمبر اسے فراہم کیا جاتا۔

بیشتر شائقینِ کرکٹ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نمبر آئی سی سی کی جانب سے الاٹ کیے جاتے ہیں یا پھر ٹیم میں کوچ یا مینیجر کی ذمہ داری ہوتی کہ نمبرز مہیا کریں لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔

آئی سی سی نے تمام ٹیمز کو اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق نمبرز کا انتخاب کریں۔ اگر تو وہ نمبر ٹیم میں کسی اور کھلاڑی کے پاس نہیں ہے تو وہ مطلوبہ کھلاڑی کو الاٹ کردیا جاتا ہے۔