ورلڈکپ 2011ءکے سیمی فائنل میں بھارت کےہاتھوں شکست فراموش نہیں کرپایا

92

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باﺅلرعمرگل نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ورلڈکپ 2011ءمیں بھارت کے خلاف موہالی میں سیمی فائنل کی شکست فراموش نہیں کر پایا، اس شکست کا دکھ آج تک ہے اور ہمیشہ رہے گا۔


تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد نجی خبر رساں ادارے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عمرگل نے اپنے کیریئرکے اتار چڑھاؤ، یادگار لمحات اور مستقبل کے منصوبوں پر

کھل کر بات کی اور کہا کہ جب سے کرکٹ شروع کی ایک ہی ہدف تھا کہ پاکستان کیلئے کھیلنا ہے، جو سوچا تھا اللہ نے اس سے زیادہ ہی دیا، کیرئیر کے دوران مشکلات رہیں اورانجریز کاشکار بھی رہا لیکن

ہمیشہ اچھاکم بیک کیااور پرفارم کیاہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ تو وہ ہی تھا جب پہلی بار پاکستان کی نمائندگی کی تھی اور سٹار کو چوما تھا،


وہ لمحہ مجھے آج بھی یاد ہے اور یاد گار کارکردگی میں بھارت کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 5 وکٹیں لینا اور پھر ٹی 20 ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف پرفارمنس شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں خوشگوار یادیں بھارت کے خلاف میچ سے وابستہ ہیں، وہیں مایوس کن لمحات بھی بھارت کے خلاف میچز میں ہی ملے، مجھے 2011 ورلڈ کپ کا سیمی فائنل ہارنے کا افسوس ہمیشہ رہے گا،

دکھ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں بھرپور فارم میں نہیں تھا لیکن اس میچ میں اچھی باﺅلنگ نہیں کرا سکا، پاکستان وہ میچ جیت سکتا تھا اور اگر جیت جاتا تو ورلڈ کپ بھی پاکستان کا ہونا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سچن ٹنڈولکر کے ایل بی ڈبلیو پر ڈی آر ایس نے جو فیصلہ دیا اس پر سب ہی کو حیرت تھی، اگر فیلڈ امپائر کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوتا اور

سچن کی وکٹ جلد مل جاتی تو میچ کا نتیجہ مختلف ہوسکتا تھا کیونکہ سچن کی بیٹنگ کی وجہ سے ہی بھارت 260 تک سکور لے جانے میں کامیاب ہوا تھا۔