وہ پانچ مواقع جب پاکستان میچ جیت سکتا تھا لیکن جیتی ہوئی بازی ہارگیا

14

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
ٹیسٹ کرکٹ میں چھوٹا ہدف پاکستانی کرکٹ ٹیم کوتکلیف پہنچانے سے باز نہیں آتا۔ کبھی بلے بازوں کی غیر ذمہ داری بولرز کی محنت پر پانی پھیر دیتی ہے اور پھر بہت ہی کم فرق سے ہونے والی شکست ہمیشہ کادکھ بن جاتی ہے۔


وقت کے ساتھ ساتھ ایسے ٹیسٹ میچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جن میں پاکستانی ٹیم نے جیتی ہوئی بازی اپنے ہاتھوں سے گنوائی ہے۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا/ سڈنی،1973/ 52 رنز سے شکست
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اس ٹیسٹ میں آسٹریلیا پر پہلی اننگز میں 26 رنز کی سبقت حاصل کی تھی اور دوسری اننگز میں سلیم الطاف اور سرفراز نواز کی چار، چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے نتیجے میں

میزبان ٹیم کو صرف 184 رنز پر آؤٹ کردیا تھا۔ اس طرح اسے میچ جیتنے کے لیے صرف 159 رنز کا ہدف ملا تھا۔ تاہم دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم فاسٹ بولر میکس واکر کی شاندار بولنگ کے نتیجے میں

صرف 106 رنز پر ڈھیر ہو گئی جنہوں نے صرف 15 رنز دے کر چھے وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستانی اننگز میں صرف تین بیٹسمین دوہرے اعداد میں داخل ہو سکے جن میں ظہیرعباس 47 رنز کے ساتھ نمایاں تھے۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا/ گال، 2009/ 50 رنز سے شکست
پاکستان نے میزبان ٹیم کو پہلی اننگز میں 292 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد پہلی اننگز میں محمد یوسف کی سنچری کی بدولت 50 رنز کی سبقت حاصل کی تھی۔

دوسری اننگز میں پاکستانی بولرز نے سری لنکا کو 217 رنز پر آؤٹ کر دیا تھا۔

پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 168رنز کا ہدف ملا لیکن رنگانا ہیرتھ کی چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی نے پاکستانی ٹیم کے قدم صرف 117 رنز پر ہی روک دیے تھے۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا/ سڈنی، 2010 / 36 رنز سے شکست
محمد آصف کی چھ وکٹوں کی عمدہ بولنگ نے آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں صرف 127 رنز بنانے دیئے جس کے جواب میں عمران فرحت اور سلمان بٹ کی سنچری اوپننگ شراکت نے

پاکستانی ٹیم کا سکور 333 تک پہنچانے میں مدد دی ۔ آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں دو سو چھ رنز کے خسارے میں جانے کے بعد دوسری اننگز میں بہتر کارکردگی دکھائی اور

مائیکل ہسی کی سنچری اور شین واٹسن کے 97 رنز کی بدولت 381 رنز بناکر پاکستان کو میچ جیتے کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستانی بیٹسمین اس کم ہدف کے تعاقب میںآف اسپنر نیتھن ہورٹرز کے جال میں پھنس گئے جنھوں نے پانچ وکٹیں لے کر پاکستانی بساط صرف 139 رنز پر لیپٹ دی۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا/ ابوظہبی، 2017/ 21 رنز سے شکست
سرفراز احمد کو اپنی قیادت میں کھیلے گئے پہلے ہی ٹیسٹ میں اس طرح ہارنے کا یقین ہی نہ آیا۔

پاکستانی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے صرف 136رنز کا معمولی ہدف ملا تھا لیکن رنگانا ہیرتھ نے دوسری اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی دوسری اننگز صرف 114 رنز پر تمام کردی تھی ۔

درحقیقت ہیرتھ ہی اس میچ کے ہیرو تھے جنہوں نے پہلی اننگز میں بھی شاندار بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی چار سو وکٹیں بھی مکمل کی تھیں۔

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ/ ابوظہبی، 2018 / 4 رنز سے شکست
رنز کے اعتبار سے یہ ٹیسٹ کرکٹ کی پانچویں سب سے کم فرق والی شکست ہے جبکہ پاکستانی ٹیم اس سے قبل کبھی اتنے کم فرق سے ٹیسٹ نہیں ہاری ہے۔

پہلے دن نیوزی لینڈ کو صرف 153 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد پہلی اننگز میں 74 رنز کی سبقت تک سب کچھ پاکستانی ٹیم کے لیے اچھا تھا لیکن یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم تھی کہ

چوتھی اننگز پاکستان کو کھیلنی ہے اور ایک چھوٹا ہدف ہمیشہ پاکستانی بیٹسمینوں کے اعصاب پر سوار ہوجاتا ہے اور وہی ہوا ۔ پاکستانی ٹیم 176 رنز کے ہدف کو پار نہ کرسکی اور

دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا کے مصداق یہ ٹیسٹ صرف چار رنز سے ہار گئی اور یوں کپتان سرفراز احمد کو ٹھیک ایک سال کے بعد اسی مقام پر ایک اور تکلیف دہ نتیجے کا سامنا کرنا پڑا۔