وہ بڑے 10 کھلاڑی جو لیجنڈ کہلاتےہیں لیکن کبھی ورلڈ کپ نہ جیت سکے

14

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
ورلڈکپ جیتنا یقیناً آسان نہیں ہے۔ مایہ ناز انڈین بلے باز سچن تندولکر سے ہی پوچھ لیں۔ اس عظیم شخص کو ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے کے لیے چھ بار کوشش کرنا پڑی۔ سچن ٹندولکر نے 1989 میں ایک روزہ میچوں میں ڈیبیو کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے۔


اپنے 23 سالہ طویل کیریئر میں انھوں نے چھ ورلڈ کپ کھیلے جن میں سے پہلے پانچ میں وہ انڈیا کو عالمی کپ دلانے میں ناکام رہے۔ لیکن 2011 کے ورلڈ کپ میں یہ ٹائٹل انڈیا کے نام ہوا۔ یہ سچن کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ تھا۔

اگر ہم کرکٹ کے عالمی کپ کی مختصر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں مختلف ادوار میں کچھ ٹیمیں کرکٹ کی دنیا پر راج کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک عرصے تک ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا نے دنیائے کرکٹ پر اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔

آئی سی سی نے 10 ایسے عظیم کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی ہے جو ورلڈکپ نہیں جیت سکے۔ ورلڈ کپ جیتنے کی مختصر فہرست میں ایسے بہت سے کھلاڑی شامل نہیں ہوسکے جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔

گراہم گوچ
انگلینڈ کے مایہ ناز بلے باز گراہم گوچ نے ورلڈ کپ جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے تین ورلڈ کپ کے فائنل کھیلے اور سنہ 92 کے عالمی کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت بھی کی لیکن ہر بار شکست ہی ان کا مقدر بنی۔

این بوتھم
بوتھم نے انگلینڈ کی طرف سے دو ورلڈ کپ کے فائنلز کھیلے۔ وہ انگلینڈ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک تھے اور اس پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ انھوں نے عالمی کپ کے دوران بھی کیا۔

بوتھم ہمیشہ سے ہی اچھی باؤلنگ کرتے تھے لیکن سنہ 1992 کے ورلڈکپ میں انھوں نے انتہائی عمدہ باولنگ کا مظاہرہ کیا۔ اس ٹورنامنٹ میں انھوں نے 10 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کیں جس کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔

وقار یونس
ماضی کی ان تلخ یادوں کو دوبارہ سے تازہ کرنا آسان نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک تلخ یاد وقار یونس سے جڑی ہے جو بلاشبہ اپنے دور کے بہترین بولرز میں سے ایک تھے۔

وقار کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کا نام 1992 کی ورلڈ کپ ٹیم میں تو تھا اور وہ ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا بھی گئے لیکن،زخمی ہونے کے باعث انھیں وطن واپس لوٹنا پڑا۔

پاکستان نے وہ ورلڈ کپ تو جیت لیا لیکن وقار کی یہ حسرت باقی رہی۔ انھوں نے اس کے بعد مزید تین ورلڈ کپس میں شرکت کی اور سنہ 1999 میں تو وہ اس ٹیم کا بھی حصہ تھے جو ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچی تھی لیکن جیت کا یہ خواب فقط ایک خواب ہی رہا۔

سارو گنگولی
سارو گنگولی نے اپنے مختصر کیریئر کے دوران تین ورلڈ کپ کھیلے اور سنہ 2003 میں انڈیا کی اس ٹیم کی سربراہی کی جو ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی۔

ان کی انفرادی قابلیت پر تو کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ سنہ 2003 کے ورلڈ کپ کے دوران انھوں نے تین سنچریاں بنائیں۔ ان کی وجہ شہرت انڈیا کے نئے آنے والے کھلاڑیوں کی تربیت کرنا تھا۔

لیکن گنگولی کا ورلڈ کپ کی تاریخ میں ریکارڈ لاجواب تھا۔ انھوں نے 22 ورلڈ کپ میچوں 55.88 کی اوسط سے 1006 رنز بنائے۔

برائن لارا
برائن لارا کے ٹیسٹ میچوں میں ریکارڈ تو کرکٹ کے تمام شائقین کو معلوم ہی ہیں۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ پورٹ آف سپین کا شہزادہ ایک روزہ میچوں میں بھی ویسے ہی رنز بناتا تھا جیسے ٹیسٹ میچوں میں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ لارا نے دنیائے کرکٹ میں اس وقت قدم رکھا جب ویسٹ انڈیز اس پر راج کے آخری ادوار سے گزر رہا تھا۔

لانس کلوزنر
لانس کلوزنر ’زولو‘ کے لقب سے جانے جاتے تھے کیونکہ وہ زولو زبان روانی سے بولتے تھے۔ لانس کلوزنر ایک اعلیٰ پائے کے آل راؤنڈر تھے۔

کلوزنر ٹیسٹ میچوں کے بہترین کھلاڑی تھے لیکن سنہ 1999 کے ورلڈ کپ میں انھوں نے ایک روزہ میچوں میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔

لیکن،بدقسمتی سے جنوبی افریقہ کی ٹیم ایک انتہائی سنسنی خیز سیمی فائنل مقابلے کے بعد میچ برابر کرنے میں ہی کامیاب ہو سکا، جو اس کی فائنل تک رسائی کے لیے کافی نہیں تھا۔

جیک کیلس
لانس کلوزنر کے بعد جنوبی افریقہ کے عظیم آل راؤنڈر جیک کیلس کا نام لینا ضروری ہے۔ کیلس نے ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں رنز اور وکٹوں کے انبار لگائے۔

انھوں نے ایک روزہ میچوں میں 273 وکٹیں حاصل کیں اور 11 ہزار سے زائد رنز بنائے۔ سری لنکا کے سنتھ جے سوریا کیلس کے بعد دنیا کے دوسرے ایسے آل راونڈر ہیں جنھوں نے 10 ہزار سے زائد رنز اور 250 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

ٹیم کی ضرورت کے مطابق وہ محتاط اور جارحانہ دونوں انداز سے کھیلتے تھے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جیک کیلس سمیت جنوبی افریقہ کے دیگر عظیم کھلاڑیوں کو بھی ورلڈ کپ جیتنے کا موقع نہیں مل سکا۔

کمارسنگاکارا
کمار سنگاکار نے جس انداز سے 2015 کے ورلڈ کپ میں شاندار پرفارمنس کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہا وہ ایک روزہ میچوں میں ان کی عظمت کو ثابت کرتا ہے۔

انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں یکے بعد دیگرے چار سنچریاں بنائیں۔ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے اختتام پر صرف سچن ٹنڈولکر کے رنز ان سے زیادہ تھے۔ ایک افسوس جو شاید انھیں ہمیشہ رہے گا وہ یہ کہ انھوں نے کبھی کوئی ورلڈ کپ نہیں جیتا۔

اے بی ڈی ویلیرز
اے بی ڈی ویلیرز اپنے بلے کے ساتھ وہ کچھ کر سکتے تھے جس کے بارے میں کوئی اور بلے باز سوچ بھی نہیں سکتا۔

ان کے کیریئر کی بیٹنگ اوسط 53.50 تھی جو انھیں عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں ڈالنے کے لیے کافی ہے، اور ان کا 100 سے زائد کا سٹرائک ریٹ بھی انھیں منفرد بناتا ہے۔

ڈی ویلیرز نے 2015 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو سیمی فائنل میں فتح کے دہانے پر لا کھڑا کیا لیکن ہمیشہ کی طرح ان کی ٹیم ’چوک‘ کر گئی اور ڈی ویلیرز بغیر کوئی ورلڈ کپ جیتے کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔

شاہد آفریدی
کسی کو ’بوم بوم‘ کا لقب ایسے ہی نہیں مل جاتا۔ شاہد آفریدی نے سنہ 1996 میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے خود کو دنیا میں متعارف کروایا۔ لیکن ان کا کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بطور کھلاڑی تبدیل ہوئے ہیں۔

ہاں وہ لمبے چھکے مارتے تھے اور سنہ 1996 میں 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ بہت عرصے تک ان کے نام رہا لیکن ساتھ ہی وہ اپنی لیگ سپن کی بدولت سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر بھی ہیں۔

اس سب میں آفریدی کی کپتانی بھی ملا دی جائے تو ان کا شمار ان عظیم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے کرکٹ کے کھیل میں جدت ڈالی اور جس سے شائقین کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔