پاکستانی کرکٹرز کے مقبول ترین ورلڈریکارڈ، ج می س کچھ ٹوٹ گیے اور کچھ ابھی تک قایم ہیں

120

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا کی ایک ایسی کرکٹ ٹیم ہے جس کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی- یہ ٹیم کھیل کے میدان کب کیا کارنامہ انجام دے گی؟ اس کے بارے میں کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا-


گزشتہ 9 سالوں کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں- لیکن کچھ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کئی ایسے حیران کن عالمی اعزازات کی مالک ہے جنہیں حاصل کرنے کی خواہش دنیا کے

ہر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی میں موجود ہے- آئیے ہم آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ان ورلڈ ریکارڈز کے بارے میں بتاتے ہیں جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں-

امتیاز احمد پہلے ایسے وکٹ کیپر تھے جنہوں نے ڈبل سینچری اسکور کی-

وسیم باری پہلے ایسے وکٹ کیپر تھے جنہوں نے ایک ہی ٹیسٹ میچ میں وکٹوں کے پیچھے سے 7 کیچ پکڑے- یہ میچ آکلینڈ میں منعقدا ہوا- کرکٹ کی تاریخ میں ایک ہی ٹیسٹ میچ میں 7 کیچ پکڑنے والے صرف 3 وکٹ کیپر ہیں-

جاوید میانداد کرکٹ کی تاریخ کے وہ واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنے 50ویں اور 100ویں ٹیسٹ میچ میں ایک ایک سینچری اسکور کی-

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بہترین باؤلر وسیم اکرم کو اپنے ملک کے لیے 6 ریکارڈ قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہے- ان میں ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ اسکور(257)٬ سب سے زیادہ چھکے (12)٬ آٹھویں وکٹ پر

سب سے طویل پارٹنر شپ٬ ٹیسٹ میچز میں 13 بار مین آف دی میچ٬ مسلسل دو بار ہیٹ ٹرک اور ایک روزہ اور ٹیسٹ میچ دونوں میں ہی دو دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کرنے کا ریکارڈ شامل ہے-

انضمام الحق نے اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا جو کہ 184 رنز تھے- اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے Gorden Grange کے پاس اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ میں 149 رنز بنانے کا ریکارڈ تھا جسے انضمام الحق نے توڑ دیا-

یاسر حمید وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سینچریاں بنائیں-

ماجد خان ان چار کھلاڑیوں میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میچ میں دوپہر کے وقفے سے قبل ہی سینچریاں اسکور کر لی تھیں- ماجد خان نے 1976 میں نیوزی لینڈ سے ہونے والے ایک ٹیسٹ میچ میں وقفے سے قبل 108 رنز بنائے-

سب سے کم عمر میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کا اعزاز حسن رضا کے پاس ہے- انہوں نے جب اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تو اس وقت ان کی عمر صرف 14 سال اور 227 دن تھی-اس سے قبل بھی یہ اعزاز پاکستانی کھلاڑی مشتاق احمد کے پاس تھا جنہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 15 سال کی عمر میں کھیلا-

سال 1997 میں اظہر محمود اور مشتاق احمد نے 10ویں وکٹ کی پارٹنر شپ پر 151 رنز بنائے- تاہم یہ پرانے ریکارڈ کے برابر اسکور تھا اس لیے ریکارڈ ٹوٹ نہیں سکا-