پاکستان کے وہ کھلاڑی جن میں ٹیلنٹ تو بہت تھا، لیکن،قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔

287

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان نے جہاں دنیائے کرکٹ کو عظیم کھلاڑی دیے وہیں چند کھلاڑی ایسے بھی آئے جن میں ٹیلنٹ تو بہت تھا، لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کھلاڑیوں میں کئی نے اپنے شروع کے میچز میں ریکارڈز بنائے جبکہ


کچھ کو تو مستقبل کا کپتان بھی قرار دیا گیا۔ لیکن حالات و واقعات اور کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں نے ان کھلاڑیوں کے کیریئر کو بریک لگا دی۔

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ عتیق الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں جتنی کامیاب کہانیاں ہیں، اتنی ہی بھولی ہوئی داستانیں۔ اوران کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کا سلیکشن کا معیارہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کھلاڑیوں کواپنا لوہا منوانے کے لیے مستقل مواقع ملتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

عتیق الرحمان کے بقول پاکستان میں کبھی کوئی کھلاڑی ایک سال بعد اور کبھی کوئی چھ سال بعد کم بیک کر رہا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا، بھارت اور سری لنکا جیسے

ممالک کے پاس ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار سے زائد رنز اسکور کرنے والے متعدد کھلاڑی ہیں اور ہمارے پاس صرف ایک کرکٹر ہے۔ عتیق الرحمان کے بقول “پاکستان کرکٹ میں

جتنی لمبی فہرست ہیروز کی ہے۔ اتنی ہی لمبی ان کھلاڑیوں کی ہے جن کو کم مواقع ملے۔ اگر آپ نام لکھنے بیٹھے تو ختم نہیں ہوں گے۔ ان میں زیادہ تروہ لوگ ہیں جن کے نام ریکارڈ بکس میں زندہ ہیں۔”

عتیق الرحمان کہتے ہیں کہ تقریباً 250 کھلاڑیوں نے پاکستان کے لیے ٹیسٹ کیپ حاصل کی جن میں سے 20 سے 25 ایسے ہیں جنہیں ایک میچ کے بعد دوبارہ موقع ہی نہیں ملا۔

چالیس سے 45 ایسے کرکٹرز ہیں جنہوں نے صرف ایک سے پانچ ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ نوے کے لگ بھگ کرکٹرز وہ ہیں جو صرف 10 میچ کھیل سکے۔ اوراس کے بعد انہیں کسی نے نہیں پوچھا۔

عتیق الرحمن کہتے ہیں کہ ان سوالوں کے جواب کرکٹ آفیشلز پر قرض ہیں کہ کیا ان کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کمی تھی؟ کیا انہیں سفارش کی بنیاد پر ٹیسٹ کیپ دی گئی تھی؟

کیا ان کی موجودگی سے دوسروں کوخطرہ تھا یا وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں نہیں تھے؟ ان کے بقول “پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بارے میں سوچنا چاہیے تاکہ آگے جا کر کھلاڑی

اچھی کارکردگی دکھائیں اور دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی 10 ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے کئی کھلاڑی ہوں، نہ کہ صرف ایک یونس خان۔”

عتیق الرحمان کی بات میں دم ہےیا نہیں۔ یہ تو آپ کو ان کھلاڑیوں کی فہرست پر نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہو گا جو آئے، چھائے لیکن کامیاب کہانی نہ بن سکے۔

بازید خان مڈل آرڈر بیٹسمین: فواد عالم اوپنر: یاسر حمید اوپنر: محمد وسیم مڈل آرڈر بیٹسمین: فیصل اقبال مڈل آرڈر بیٹسمین: یاسر عرفات آل راؤنڈر: عتیق الزمان وکٹ کیپر:

ارشد خان آف اسپنر: شاہد نذیر فاسٹ بالر: تنویر احمد فاسٹ بالر: ذوالفقار بابر لیفٹ آرم اسپنر: کبیر خان فاسٹ بالر: عبدالرقیب، مینیجر: یہ سب نام اس بات کا ثببوت ہیں کہ پاکستان میں ٹیلینٹ کی قدر اس طرح ںہیں کی جاتی جس طرح ہونی چاہیے