ہر کھلاڑی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، بڑا کھلاڑی وہی ہے جو، بابراعظم نے شاندار بات کہہ دی

86

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا میں کوئی کھلاڑی ایسا نہیں ہے جو کھیل کے دوران دبائو کا شکار نہ ہو، مختلف کھلاڑیوں کو مختلف اوقات میں دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر


بڑا کھلاڑی وہی کہلاتا ہے جو دبائ دور کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کرنا ہی دبائو دور کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ وہ پختہ ذہن اور خود اعتمادی کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میچ میں اپنی باری کے انتظار میں انہیں دبائو کا سامنا کرنا پڑے تو وہ ڈریسنگ روم میں موجود ساتھی کھلاڑیوں اور سپورٹس سٹاف سے گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔

وہ میدان میں اترنے سے قبل زیادہ دیر چپ نہیں بیٹھ سکتے۔ قومی کپتان نے کہا کہ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 2020 نوجوان اور باصلاحیت کرکٹرز کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ

ایونٹ کے فوری بعد زمبابوے کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورہ پر پہنچ جائے گی اور وہ سیریز ہمارے لیے دورہ نیوزی لینڈ کی ایک اچھی تیاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل سطح پر کوئی بھی ٹیم آسان نہیں ہوتی،

اس لیے زمبابوے کے خلاف بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ بابراعظم کا مزید کہنا تھا کہ وہ زمبابوے کے خلاف کامیابی حاصل کرکے وننگ موومنٹم نیوزی لینڈ لے کر جانا چاہتے ہیں کیونکہ

نیوزی لینڈ کے خلاف نیوزی لینڈ میں سیریز آسان نہیں ہوتی۔ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں شرکت کے لیے پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم آج راولپنڈی روانہ ہوں گے۔

وہ 9اکتوبر سے شروع ہونے والے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے دوسرے مرحلے میں سنٹرل پنجاب کی قیادت کریں گے۔ سنٹرل پنجاب کی ٹیم ایونٹ کے پانچ میچوں میں سے صرف ایک میں کامیابی کے ساتھ

فی الحال پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں پوزیشن پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے مکمل شیڈول کا اعلان اور پھر ملتان اور راولپنڈی میں

بائیو سیکیور ببل میں نیشنل ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کا انعقاد ایک قابل ستائش عمل ہے، جس سے ہمارے کھلاڑیوں کو صلاحیتیں نکھارنے کے ساتھ ساتھ ان حالات میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ پہلے انٹرنیشنل اور پھر کائونٹی کرکٹ میں مصروفیات کے باعث وہ ایک طویل عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے ملاقات نہیں کرسکے،

لہٰذا وہ راولپنڈی میں سنٹرل پنجاب کے اسکواڈ کو جوائن کرنے پر بہت پرخوش ہیں۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معروف کھلاڑیوں پر مشتمل سنٹرل پنجاب کی ٹیم گزشتہ سال

فیصل آباد میں کھیلے گئے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل نہ کرپائی تھی تاہم اس مرتبہ نئے ہیڈ کوچ اور نئے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنے والی

سنٹرل پنجاب کی ٹیم میں5 میچوں میں 236 رنز بناکراب تک کے ٹاپ اسکورر عبداللہ شفیق سمیت آئی سی سی انڈر19 ورلڈکپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے قاسم اکرم اور

عرفان نیازی جیسے نوجوان کرکٹرز موجود ہیں، جن سے ایونٹ کے بقیہ میچوں میں بہترکارکردگی کی امید ہے۔ سنٹرل پنجاب کے کپتان بابراعظم کاکہنا ہے کہ گزشتہ سال سنٹرل پنجاب کی بائولنگ کمزور تھی مگر

اس مرتبہ ہم ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹنگ خاصی مضبوط ہے۔ رواں سال غلطیوں کو دہرانے کی بجائے

بہتر نتائج دینے کی کوشش کریں گے۔ وہ پرامید ہیں کہ سنٹرل پنجاب کی ٹیم نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے بقیہ میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔