پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز کاتنازعہ، راشد لطیف نےبھی خاموشی توڑ دی، فرنچائزز کےحق میں آواز بلند کر دی

108

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف بھی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز ز کے درمیان تنازعہ کے معاملے پر بول اٹھے ہیں اور فرنچائزز کے حق میں آواز بلند کر دی ہے۔


تفصیلات کے مطابق راشد لطیف نے کہا کہ فرنچائزز نے پاکستان کرکٹ کو بڑا سپورٹ کیا ہے اور جواب میں پی سی بی کو بھی ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے تھی،

موجودہ فنانشل ماڈل پاکستان کی صورتحال میں مناسب نہیں تھا جبکہ فرنچائزز کو یہی بتایا گیا کہ 3 سال بعد منافع شروع ہو جائے گا، مالکان نے 5سال تک انتظار کر لیا اور اب

کم از کم ان کے جائز مطالبات ہی تسلیم کر لیں، ان کو کہا جاتا ہے کہ ٹیم کو چلانا ہے تو چلائیں ورنہ چھوڑ دیں، متکبرانہ انداز میں تو معاملات نہیں چلائے جا سکتے، مدد کرنے والوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔


راشد لطیف کا کہنا تھا کہ پروفیشنل لوگ اس انداز میں نہیں سوچتے جو کسی کے دباﺅ پر بھرتی کئے گئے ہوں ان کو پرواہ نہیں ہوتی، میرا تو اب بھی یہی مشورہ ہے کہ

عدالت سے باہر بیٹھ کر ہی مسائل کا حل تلاش کیا جائے ورنہ پاکستان کرکٹ کا بڑا نقصان ہو جائے گا، سوچنا چاہیے کہ اگر پی ایس ایل 5کے باقی میچز ہی نہیں ہوتے تو کتنا برا اثر پڑے گا۔

واضح رہے کہ پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائزز کے درمیان لیگ کے فنانشل ماڈل پر تنازعہ چل رہا ہے اور فرنچائزز یہ معاملہ عدالت لے گئی ہیں جس پر پی سی بی نے

مایوسی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2 مختلف مواقعوں پر اس معاملے پر بات چیت کی پیشکش کی گئی مگر اسے قبول کرنے کے بجائے معاملے کو عدالت میں لے جایا گیا ہے۔