مصباح الحق نے2 سینئر کھلاڑیوں کو ورلڈکپ کیلئے قومی ٹیم کا حصہ بنانے کاعندیہ دے دیا

227

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی سیریز نا جیتنے پر افسوس ہے۔ قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ


مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کے بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز نہ جیتنے کا پچھتاوا ہے، انگلینڈ کا دورہ بہت اہم تھا کیونکہ کرکٹ کئی مہینوں تک بند تھی، بطور ٹیم اور کوچ اس سیریز کے ہارنے پر افسوس رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 30 کھلاڑی تیاری کے بغیر گئے تھے، اس کے باوجود مجموعی طور پر کارکردگی قدرے بہتر ہی رہی جب کہ غیر معمولی صورتحال میں دورہ کرنے پر انٹرنیشنل میڈیا نے

ہماری ٹیم کو سپورٹنگ ٹیم کہا جو مثبت چیز ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ حیدرعلی کو بھی ہم ہی لائے، سینئرز اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے آرہے تھے،


حیدر کے بیٹنگ نمبر کی وجہ سے انہیں پہلے نہیں کھیلا سکے، حفیظ جب اعتماد میں دکھائی دیے تو ان کو موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی میں کہا جاتا ہے پاکستان کے پاس فائرپاور نہیں،

ہم نے 2 میچز میں 190 سے اوپر سکور کیا، بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں تاہم چیزیں آہستہ آہستہ مزید بہتر ہوںگی۔ ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ ہر چیز میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے

مجموعی طور پر اپنے وژن پر نوجوان کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرنا ہے، جیسی کرکٹ ہم کھیل رہے ہیں اس کے باوجود رزلٹ ہمارے حق میں نہیں آرہے۔


انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں بہت زیادہ مصروف تھا، بطور سلیکٹر ملک میں ڈومیسٹک معاملات میں نہیں دیکھ سکتا تھا، ندیم خان کے ساتھ بیٹھ کر اب معاملات زیر بحث لاؤں گا،

ڈومیسٹک سیزن شروع کرنے کے لیے کوچز کی تعیناتی بھی ضروری تھی۔ ایک سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں جو مین کردار تھا اوپر جانے کا اس میں

شاداب، فخر، حسن کا کردار تھا، ٹاپ پرفارمر کھلاڑیوں کی انجریز کے بعد ٹیم کا مورال ڈاؤن ہوا، ہماری اینالسٹ خامیوں اور کوتاہیوں کو نوٹ کررہے ہیں، ٹیم میں ناتجربہ کاری بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوگی،


چھوٹی چھوٹی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنا ہے، جب نتائج آپ کے حق میں نہیں آتے تو قدرتی طور پر افسوس ہو تا، ہمیشہ جب ہم لیڈ کر رہے ہو تے تھے تو بارش آجاتی تھی۔

چیف سیلیکٹر نے کہا کہ بابر اعظم پاورفل ہے، بطور کپتان اپنے فیصلے خود کرتا ہے، 2 نوجوان بولرز کے ساتھ محمد عامر کو بطور سینیئر میدان میں اتارا گیا تھا جب کہ
محمد حفیظ، شعیب ملک اور وہاب کی پرفامنس ایسی ہے کہ ورلڈ کپ تک چل سکتے ہیں، 40 سال عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ ورلڈ کپ تک بہترین 15 ہمارے سامنے ہوںگے۔