پی ایس ایل 5 ادھوری رہ گئی تو رقم کا معاملہ بھی ادھورا رہ گیا، پی سی بی اور فرنچائزز کےدرمیان اس وقت کیا چل رہا ہے؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

96

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پی ایس ایل کا پانچواں ایڈیشن کو رونا وائرس کے باعث ادھورا رہ گیا مگر پی سی بی کو بعض فرنچائزز سے اب بھی واجبات کا اظہار ہے اور اس حوالے سے گورننگ کونسل میٹنگ میں بھی بات چیت کی جائے گی۔


تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل 5 کو کو رونا وائرس کی وجہ سے 30 میچز کے بعد ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا اور بورڈ رواں برس کے آخر میں بقیہ 4 میچز کرانا چاہتا ہے مگر

ابھی کوئی بات حتمی نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق تاحال بعض فرنچائزز نے اپنے مکمل واجبات ادا نہیں کئے اور اس حوالے سے ویڈیو لنک پر گورننگ کونسل کے اجلاس میں بات ہو گی،

ٹیم مالکان نے ہمیشہ کمرشل ماڈل پر اعتراض کیا، اس لئے یہ معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ بورڈ نے فیس کیلئے ڈالر کا ریٹ مقررکرنے کی خاطر ایک آڈٹ، ٹیکس و ایڈوائزری خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کی خدمات لی تھیں،


اس نے کم و زیادہ فیس اور سینٹرل پول سے یکساں منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ٹیم کے الگ ریٹ تجویز کئے مگر بورڈ نے اسے مسترد کر دیا، فرنچائز اس بات سے خوش نہیں اس پر بھی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

گزشتہ اجلاس میں جن امور پر اتفاق ہوا تھا اس پر کس حد تک عملدرآمد ہوا، یہ بات بھی زیرغور آئے گی جبکہ ٹیکس کے معاملات پر بھی بات چیت ہو گی، اجلاس میں کرکٹ بورڈ کی جانب سے

فرنچائزز کو پی ایس ایل کا الگ ڈیپارٹمنٹ بنانے سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نمائندگی نہ ہونے پر مالکان اس فیصلے سے زیادہ خوش نہیں ہیں، وہ ایک الگ کمپنی بنانے کے حق میں تھے