جب میں نےسشانت کو آخری دفعہ دیکھا تو وہ اتنا پر اعتماد نہیں تھا

22

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
دوسرے بہت سارے بالی ووڈ اداکاراؤں اور سیاست دانوں کی طرح جب شعیب اختر کو بھی سشانت کے بارے علم ہوا تو ان کو اس بات کابہت دکھ ہوا، پھر اچانک ان کو سشانت کےساتھ ان کی وہ ملاقات یاد آ گئی جس میں شعیب اختر نے سشانت کو


شعیب اختر نے سشانت کو آخری دفعہ ایئر پورٹ پر دیکھا شعیب اختر نے کہا کہ جب میں اسے دیکھا تو وہ اس وقت اتنا پر اعتماد نہیں نظر آ رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ شاید وہ تھوڑا پریشان ہے

سشانت سنگھ کے بارے یہ خبر میڈیا میں آتے ہی سارے انڈیا میں ایک سناٹا سا چھا گیا تھا، کیونکہ اس کے بارے بہت سے عوامل کار فرما نظر آ رہے ہیں

بہرحال یہ ایک عیلحدہ بحث ہے جس پر آج ساراانڈیا بات کر رہا ہے اور اس میں بہت سے بالی ووڈ کے اداکار بھی حرکت میں آ گئے ہیں اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ بالی ووڈ سے اقربا پروری کو ختم کیا جائے –

بہرحال شعیب اختر نے کہا کہ جب سشانت سنگھ میرے پاس سیا گزرا تو مجھے مرے دوست نے بتایا کہ یہ وہ آدمی ہے جو دھونی کی زندگی پر فلم بنا رہا ہے

شب اختر نے کہا کہ مجھے ساری زندگی اس چیز کا دکھ رہے گا کہ میں نے اس کو روکا کیوں نہیں ہے اور اس سے بات کیوں نہیں کی ہے – جبکہ مجھے معلوم بھی ہو گیا تھا کہ وہ تھوڑا پریشان تھا اور

اس کے بعد مجھے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ دھونی کی زندگی پر اپنی فلم بنا رہا ہے – شعیب اختر نے کہا کہ میں نے سوچا کہ میں اس کی فلم ضرور دیکھوں گا

شعیب اختر نے مزید کہا ہے کہ وہ ایک اچھے بیک گراؤنڈ سے آیا ہوا لگتا تھا اور وہ ایک اچھی فلم بنا رہا تھا اور بعد میں سشانت سنگ کی فلم بہت زیادہ مشھور ہوئی گئی اور یہی فلم

اس کی شہرت کی وجہ بنی – شعیب نے مزید کہا کہ مجھے اس کو روکناچاہے تھا اور اس کے ساتھ زندگی کے بارے میں کچھ باتیں کرنی چاہے تھیں

شعیب اختر نے مزید کہا کہ شاید میں سشانت کے ساتھ زندگی کے تلخ رویوں کے بارے میں بات کر سکتا اور اس کو کچھ اپنی زندگی کے کچھ خاص تجربے شیئر کرپاتا مگر مجھے افسوس ہے کہ

میں اس سب نہ کر سکا اور وہ بھی خاموشی سے وہاں سے چلا گیا – شعیب اختر نے یہاں پر اپنی زندگی کے بارے میں بتایا کہ جب وہ کرکٹ میں آئے تو ان کے ساتھ دنیا کے بیسٹ کھلاڑی تھے جن کے ساتھ شعیب اختر کا مقابلہ تھا

لیکن شعیب اختر کبھی بی نا امید نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس کا مقابلہ کیا اور اپنے آپ کو اس قابل بنایا کہ مینجمنٹ ان کو زیادہ فوقیت دے – جی ہاں شعیب اختر بات کر رہے ہیں وقار یونس اور وسیم اکرم کی – شعیب اختر نے مزید کہا کہ

میرے لیے وقار یونس اور وسیم اکرم کسی شاہ رخ خان اور سلمان خان سے کم نہیں تھے وہ بھی ایسے ہی ہیرو تھے جسے کہ بالی ووڈ میں یہ دونوں خان ہیرو تھے

شعیب اختر نے کہا کہ میں نے سب سے پہلے ان کا مقابلہ کیا اور پھر دوسرے ملکوں کے بہترین بلے بازوں کا اگر میں ان کا مقابلہ نہ کرتا اور اپنے آپ کو بہتر نہ کرتا تو پھر میں کبھی بھی پاکستان کرکٹ ٹیم میں سلیکٹ ہی نہ ہوتا -انھوں نے مزید کہا کہ اپنی جان لے لینا کسی بھی قسم کی پریشانی کا حل بلکل نہیں ہے بلکله یہ ایک کمزوری ہے جس کو دور کرنا چاہے

انھوں نے کہا کہ آپ کی زندگی میں جو برے حالات آتے ہیں وہ آپکی زندگی کا سب سے بڑا سرمایا ہوتے ہیں اور وہی حالات آپ کو آپکی زندگی میں آگے لیجانے کا سبب بنتے ہیں – اگر وہ برے حالات نہیں آتے تو آپ کبھی بھی اس جگہ

نہیں پہنچ پاتے جہاں پر آپ ہوتے ہو – شعیب اختر نے مزید کہا کہ جب آپ پریشان ہوتے ہو تو پھر آپ کو کسی نا کسی سے ضرور شیئر کرنا چاہے ورنہ آپ ان حالات کا شکار ہو سکتے ہیں جن حالات کا شکار سشانت ہوا ہے