کرکٹ میں آئی سی سی کایہ قانون نہیں ہوناچاہیے، آخرکار روز ٹیلر بول پڑے

15

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
جی ہاں روز ٹیلر نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں اپنی ٹیم کا ساتھ دیا ہے اور کبھی بھی اپنی ٹیم کوک دھوکہ نہیں دیا، راز ٹیلر نے 2019 کے سیمی فائنل میں انڈیا کے خلاف میچ جیتنے میں اہم کردار اد کیا

رازس ٹیلر کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجتھے ہیں کہ ون ڈے میچ کے اندر سپر اوور کا رول نہیں ہونا چاہیے ان کے نزدیک اس رول سے کسی ایک ٹیم کے ساتھ نا انصافی ہو جاتی ہے،

اہوں نے مزید کہا کہ زیادہ بوندری لگانے کا قانون بہت زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے اور ان کے نزدیک آپ کسی کو ورلڈ چیمپئن صرف اس بنا پر نہیں بنا سکتے ہیں کہ کس ٹیم نے زیادہ بونڈریاں لگائی ہیں

بیشک نیوزی لینڈ ٹیم کے لیے وہ ایک بہت بڑا نقصان تھا جو انھوں نے ورلڈ کپ کی شکل میں ہارا – جی ہاں پچھلے سال جسے آپ کو بھی پتہ ہے کہ نیوزی لینڈ کا مقابلہ ورلڈ چیمپئن انگلینڈ سے تھا اور

ان کا فیصلہ بھی سپر اوور پر آ گیا تھا اور آخر میں جس ٹیم نے زیادہ بوندریاں لگائی تھیں اس کو ورلڈ کپ کا وننر قرار دے دیا گیا تھا – مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ نے سارے ٹورنامنٹ میں ہی بہت اچھی کارکردگی دکھائی تھی مگر قسمت کی دیوی ان دن ان کے ساتھ نہیں تھی

اس کے علاوہ ایک اور انہونی جو ان کے ساتھ ہوئی تھی وہ اوور تھرو کی تھی جس میں نیوزی لینڈ کے ایک کھلاڑی نے تھرو پھینکا تھا مگر وہ سٹوک کے بیٹ کو لگ کر چکا ہو گیا تھا،

اگر یہ چکا نہ ہوتا تو پھر نیوزی لینڈ یہ ورلڈ کپ جیت چکا تھا مگر اس چکے نے سارے میچ کا پانسہ ہی بدل دیا تھا – اس کے اوپر بھی بعد میں بہت زیادہ تنقید ہوئی تھی

حقیقت میں ان اوور تھرو پر ٹوٹل 6 رنز انگلینڈ کی ٹیم کو مل گئے تھے لیکن جب مختلف بہترین امپریز نے اس کے بارے میں رائے دی تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر ٹوٹل 5 رنز دینے بنتے تھے،

آسٹریلیا کے سائمن ٹوفل بھی اس بارے میں یہی بات کرتے ہنی کہ اس وقت سری لنکا کے امپائر کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا – تو پھر انگلینڈ دوبارہ اس میچ میں آ گیا ورنہ انگلینڈ تو یہ ورلڈ کپ ہار چکا تھا

مختلف لوگوں کا کہنا تھا کہ اس دن صرف اور صرف قسمت کی دیوی انگلینڈ پر مہربان تھی اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا – کیونکہ آج تک کرکٹ کی ہسٹری میں ورلڈ کپ فائنل

اس قدر مشکل نہیں ہوا تھا اور پھر کبھی کبھی اوور تھرو پر اتنے رنز کسی بھی تم کو نہیں ملے تھے یہ سب اس طرح ہو گیا کہ شاید میچ کے آفیشلز کو بھی نہیں پتہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے

اگر ہم بات کریں راز ٹیلر کی تو وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں یقینا ان کو آئی سی سی کا یہ قانون ٹھیک نہیں لگے گا کیونکہ ہر دفعہ ورلڈ کپ کے فائنل میں آ کوئی آسان کام نہیں ہے اور پھر میچ اس حد تک اپنے حق میں کر لینا اس سے بھی مشکل کام ہے،

تو پھر اگر یہ سب معملات دیکھیں تو راز ٹیلر کا اس قانون سے بیزار ہونا سمجھ میں آتا ہے – ورنہ اگر ہم عام حالت میں بات کریں تو سپر اوور سے میچ میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور میچ کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے