بھارتی بورڈ کی پی ایس ایل منسوخ کرنےکی درخواست پر پی سی بی کا جواب آ گیا

78

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک آفیشلز نے نے ایک مشھور ٹی وی چینل پر بیٹھ کر پی سی بی کو یہ آپشن دیا تھا کہ اگر بی سی بی اگلے سال پی ایس ایل کا چھٹا اڈیشن کینسل کردے اور اس کی جگہ اشیاء کپ کروا لے تو پھر ہم بغیر کسی اعتراض کے پاکستان میں آ جائیں گے -لیکن


اگر پاکستان کرکٹ بوڈ چاہتا ہے کہ اشیا کپ اسی سال سپتمبر اکتوبر میں ہی ہو اور انڈیا کی ٹیم پاکستان آئے یا پھرجہاں کہیں پاکستان اس ایونٹ کو منتقل کرنا چاہتی ہے وہاں پر انڈیا ٹیم جائے تو پھر بھارتی ٹیم اس کے لیے میّسر نہیں ہے

دوستو میں نے اپنے کل کے آرٹیکل میں بھی بڑی تفصیل سے لکھا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا ارادہ ہے کہ وہ سپتمبر اکتوبر میں آئی پی ایل کا اڈیشن کروائے جوکہ اس سال ابھی تک کرونا کی وجہ سےنہیں ہوا ہے،

صرف اس ایک چیز کے علاوہ کوئی اور چیز سمجھ نہیں آتی ہے کہ جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم کے پاس اتنے اہم ایونٹ کےلیے ٹائم نہیں ہے – کیونکہ انھوں نے اپنی بات میں یہ بلکل بھی نہیں کہا ہے کہ کو رونا کی وجہ سے وہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں

آج پی سی بی نے اپنے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہےکہ پاکستان کبھی بھی اپنا پی ایس ایل کا شیڈول تبدیل نہیں کریگا اور یہ اسی وقت ہو گا جو کہ اس کا ہر سال ٹائم طے کیا گیا ہے یعنی کہ فروری کے مہینے میں،

اگر کسی کو اشیاء کپ میں شرکت کرنی ہے تو کرے ورنہ نہ کرے – جہاں تک اشیاء کوکپ کے ہونے کا سوال ہےکہ آیا کہ اس پاکستان میں ہو گا کہ نہیں – تو کرونا کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ یہ پاکستان میں منعقد نہ ہو سکے مگر اس اپنے ٹائم پر کسی نہ کسی نیوٹرل جگہ پر ضرور ہو گا

اس کے حوالے سے سننے میں آ رہا ہے کہ پی سی بی نے 2 نیوٹرل جگہوں کا انتخاب کر لیا ہے یا تو اشیاء کپ سری لنکا میں کروایا جائے گا یا پھر اس کو دبئی میں کروایا جائے گا – مگر ایک چیز طے ہے کہ پی سی بی اس کوشش میں ضرور ہے کہ اس کو اس کے مقررہ ٹائم پر کروایا جائے –

اس ہولے سے کرکٹر ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ انڈیا صرف اور صرف اس لیے اس سب کچھ کر رہا ہے تاکہ وہ آئی پی ایل کو اس سال کے اندر اندر کروا سکے اور اس حوالے سے یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ وہ بھرپور کوشش بھی کر رہا ہے کہ

ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ اس سال منعقد نہ ہو کیونکہ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ انڈیا بڑے آرام سے آئی پی ایل کروا لیگا اور یہی وجہ ہے کہ وہ پی سی بی کو بھی یہ کہ رہا ہے کہ پی سی بی اپنا سالانہ ایونٹ پی ایس ایل اگلے سال ملتوی کر دے

یعنی کہ آپ سوچیں ذرا کہ انڈیا صرف اپنے ایک آئی پی ایل کو بچانے کے لیے 3 ایونٹس کو ختم کرنے کا سوچ رہا ہے ایک تو وہ چاہ رہا ہے کہ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ اپنے مقررہ وقت پر نہ ہو اور پھر ساتھ ہی اس کی خواہش ہے کہ

اشیاء کپ بھی اس سال منعقد نہ ہو بلکہ اگلے پر چلا جائے اور اشیاء کپ تب کروایا جائے جب پاکستان اپنے ملک میں پی ایس ایل کرواتا ہے اور پاکستان اپنا مین ایونٹ انڈیا کے کہنے پر کینسل کر دے

دوستو ! مجھے آپ کو تو پتہ نہیں ہے کہ مگر انڈیا کی اس سوچ کو دیکھ کر ہنسی آ رہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے کہ جس طرح وہ چاہے گا پوری دنیا ویسے ہی چلے گی – اور جہاں تک ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی بات ہے تو

اس کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ آسٹریلیا سے نیوزی لینڈ میں شفٹ جو جائے کیونکہ نیوزی لینڈ دنیا کا پہلا ملک ہے جوکہ کرونا فری ہو چکا ہے