ہمیں یہ توقع بلکل بھی نہیں تھی راس ٹیلر نےپی ایس ایل کےبارے ایسی بات کر دی کہ آپ بھی حیران رہ جائیں

341

کرکٹ سے جڑی ہر خبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
راس ٹیلر نیوزی لینڈ کا وہ کھلاڑی جس نے شاید ہی کبھی اپنی ٹیم کو مشکل کے وقت دھوکہ دیا ہو – راس ٹیلر کا شمار دنیا کےٹاپ کلاس کے بیٹسمنوں میں ہوتا ہے، وہ چکھے اور چوکے مارنے والے بہترین بلّے باز ہیں اور یہی نہیں بلکہ


یہی نہیں بلکہ ان پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہےکہ اگر مشکل وقت میں پیچ پر چلے گئے ہیں تو پھر انھوں نے اپنی ٹیم کو مشکل وقت سے نکالا ہے، اگر ہم 2011 کے ورلڈ کپ کی بات کریں تو جس کھلاڑی نے

شعیب اختر کی اچھی خاصی دلائی کی تھی وہ راس ٹیلر ہی تھے اگرچہ اس میں راس ٹیلر کو کامران اکمل نے 2 دفعہ کیچ نہ پکڑکر اس موقع دیا تھا کہ وہ اس دن سنچری سکور کر لیں بہرحال راس ٹیلر میں یہ قابلیت تھی تو انھوں نے

اتنا سکور کیا، اس کے علاوہ بھی اور بہت سی جگہ پر راس ٹیلر نے اپنی ٹیم کو کندھا دیا، اگر ہم بات کریں 2019 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی جوکہ انڈیا کے خلاف کھیلا گیا تھا اس میچ میں میں نیوزی لینڈ نے

پہلے بیٹنگ کی تھی اور اس دن پچ بہت خطرناک تھی، نیوزی لینڈ کے پہلا کھلاڑی بہت جلد آوٹ ہو گیا تھا اور اس کےبعد نیوزی لینڈ کے کپتان نے آ کر سہارا دیا، پھر ایک اور کھلاڑی آوٹ ہو گیا،

اس میچ میں بھی راس ٹیلر نے 3 7 رنز سکور کیا تھا جوکہ نیوزی لینڈ ٹیم کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا اگر راس ٹیلر وہاں پر یہ سکورنہ کرتے تو پھر نیوزی لینڈ وہ میچ ہار چکی تھی

حال ہی میں نیوزی لینڈ کے اس مایہ ناز بلے باز سے پی ایس ایل کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ اس میں شرکت کر نا چاہتے ہیں تو اس کے سوال پر انھوں نے جواب دیا کہ

اگر ان کو پی ایس ایل کے آفیشلز سے اس بارے میں آفر آئے گی تو وہ ضرور اس میں شامل ہونا چاہیے گے، ایک سوال کےجواب میں انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھی لیوک رونکی بھی پی ایس ایل کھیل چکے ہیں اور وہ

کافی مشھور بھی ہو چکے ہیں لہذا وہ بھی چاہیے گے کہ اگر ان کو پی ایس ایل کی طرف سے کھیلنے کی آفر ہو تو وہ بھی یہ ایونٹ ضرورکھیلیں، راس ٹیلر نے مزید کہا کہ لیوک کو پی ایس ایل کھیلنے میں بہت مزہ آتا ہے

اس کی میرے سے اس بارے میں بات بھی ہوتی ہے، اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وہ پاکستان کی لوکل کمیونٹی میں بھی بہت مشھور ہو چکے ہیں، راس نے مزید کہا کہ

ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کی کرکٹ تھوڑی ہی رہ گئے ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ وہ جو بھی کھیلیں اچھےطریقے سے کھیلے اور اس کو تاریخ کا حصہ بنا کر جائیں،

انھوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اب زیادہ سے زیادہ ٹی ٹوینٹی لیگز کھیلیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ کھیل سکیں اور کسی بھی قسم کی انجری سے محفوظ رہیں، ٹی ٹوینٹی لیگ کھیلنے سے کھلاڑی کا کیریئر لمبا ہو جاتا ہے کیونکہ

اس میں کرکٹ بہت زیادہ نہیں ہوتی ہےبلکہ تھوڑی ہوتی ہے اس کے برعکس ٹیسٹ کرکٹ یا پھر ون ڈے کرکٹ بہت زیادہ مشکل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے محمّد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے