اس عظیم پاکستانی بولرکی مدد کےبغیر ہم کچھ بھی نہیں تھے، عادل رشید اور معین علی نے تعریف کےپل باندھ دیے

40

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہاگر دنیاۓ کرکٹ کے گرو پچھلے دس سالوں کا اگر تجزیہ کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ کون سا ایک کھلاڑی ہو جس کو وہ پورے دس سال میں بیسٹ پلیر کا ایوارڈ دینا چاہتے ہوں تو


بلا شبہ اس میں ویرات کوہلی کا نام اس تیار کی گئی لسٹ کے پہلے تین ناموں میں ضرور آئے گا، ویرات کوہلی نے ان دس سالوں میں ہر طرح کی پچ پر رن کیے ہیں اورہر طرح کے بولر کا سامنا کیا نہ صرف سامنا کیا ہے بلکہ اس کو اچھے طریقے سے کھیلا بھی ہے

ہاں اگر ہم محمّد عامر کی بات کریں تو وہاں پر معامله ذرا ہٹ کر ہے کیونکہ محمّد عامر کے بارے میں ویرات کوہلی خود بھی ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ

اسے محمّد عامر کو کھیلنے میں تھوڑا مسلہ ہوتا ہے مگر اس کے علاوہ اور بھی دنیا میں بہت سے بولر ہے مگر مجال ہے کہ کسی بھی بولر نے ویرات کوہلی کو پریشان کیا ہو

لیکن موجودہ حالت میں ویرات کوہلی کے بارے میں ایک چیز دیکھنے کو مل رہی ہے کہ وہ سپین بولرز کے سامنے تھوڑا پریشان ہو جاتے ہیں اور ان کو کھیلنے میں ویرات کوہلی کو دشواری ہو رہی ہے،

اس بارے میں اگر ہم ان کھلاڑیوں کا ذکرکریں جن کے سامنے تھوڑا بہت ویرات کوہلی کو بے بس ہوتے دیکھا گیا ہےتو ان ناموں میں افغانستان کے راشد خان ہیں، آسٹریلیا کے آدم زمپا ہیں اور انگلینڈ کےعادل رشید اور معین علی ہیں

عادل رشید اور معین علی کا کہنا کہ ہے ان سب کے پیچھے پاکستان کے عظیم سپین بولر ثقلین مشتاق کا ہاتھ ہے اور ویرات کوہلی کو پکڑنے کے لیے ثقلین مشتاق نے ان سپین بولرز پر بہت محنت کی ہے خاص کر اپنی بولنگ کوچنگ کے دوران عادل رشید اور معین علی کو بہت زیادہ پریکٹس کروائی گئی ہے،

ثقلین ویرات کوہلی کےبارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایک نہیں ہے بلکہ وہ پوری ٹیم ہے لہذا اس طرح ویرات کوہلی پر پریشر بھی زیادہ ہوتا ہے، یہ ثقلین مشتاق کی کوچنگ ہی تھی جس کی وجہ سے

عادل رشید اور معین علی نے چھ چھ بار ویرات کوہلی کو آوٹ کیا ہوا ہے -اس میں زیادہ ہاتھ ثقلین مشتاق کی کوچنگ کا ہےجس میں انہوں نے ان دو بولرز کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ

ویرات کوہلی دنیا کا بہترین بیٹسمین ہے لہذا جب وہ بتٹنگ کیلیے آتا ہے تو اس پر تم سے زیادہ پریشر ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی پرفارمنس دکھا سکے لہذا تم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ

سکوں سے کوہلی کے خلاف اس کےکمزور جگہوں پر گیند پھینکیں اور اس طرح وہ کوہلی کے خلاف کامیاب بھی ہوئے، کہا جاتا ہے کہ ایک میچ میں عادل رشید نے کوہلی کو آوٹ کیا تھا جس میں اس نے

کوہلی کی آف سٹم کی کیلی اڑای تھی یہ میچ 8 1 0 2 میں ہیڈنگلے میں ہوا تھا اور ویرات کوہلی اس میچ میں آوٹ ہونےکے بعد بہت حیران ہوا تھا کیونکہ وہ گیند بہت ہی اچھی پھینکی گئی تھی اور

ویرات کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ آوٹ ہو گیا ہے، اس کے بعد ثقلین مشتاق نے اس گیند کا نام “ویرات والی ڈلیوری ” رکھ دیا تھا جو کہ آج بھی اس نام سے جانی جاتی ہے اگر ہم بات کریں کہ

ویرات کس بال پر آوٹ ہو سکتا ہے تواگر بولر بال کو آوٹ سائیڈ آف لیگ سٹیمپ پھینکے گا اور بال تھوڑی سپیڈ میں ہو گی تو وہ بال کوہلی کو ضرور پریشان کریگی -عادل رشید نے بھی یہی بال اس کو کروائی تھی