پی سی بی کی نااہلی! انڈین میڈیا پاکستان پر چڑھ دوڑا

20

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
جب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ کا اعلان ہوا ہے تب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کچھ زیادہ ہی مصروف نظر آ رہا ہے اور یہ اتنا مصروف ہو گیا ہے کہ اس کو اپنی غلطیاں بھی نظر نہیں آ رہی ہیں،

جب دورہ انگلینڈ کااعلان کیا گیا تھا تو اسی وقت اس بات کا بھی اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تمام کھلاڑیوں کے کو رونا ٹیسٹ کروائے گا لہذا اس بات عملی جامہ پہنایا گیا اور 3 مختلف مقامات پر

تمام کھلاڑیوں کے شوکت خانم لیبارٹری سےٹیسٹ کروائے گے، سب سے پہلے والے گروپ میں 3 کھلاڑیوں کا کو رونا پازیٹو آ گے ان میں شاداب خان بھی شامل تھے، اس پر لوگوں نے اور میڈیا نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور

سوچا کہ کوئی بات نہیں اتنی بڑی ٹیم ہے اگر اس میں سے 3 کھلاڑی کو رونا پازیٹو نکل بھی آئے ہیں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہےلیکن اصل مسلہ تب بنا جب اس کے الگے گروپ میں تقریبا 9 سے 10 کے قریب کھلاڑیوں کا کو رونا ٹیسٹ پازیٹو آ گیا پھر تو جیسے

جنگل میں آگ ہی لگی گئی ہو ہر طرف صرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے متعلق ہی بات ہو رہی تھی، اس پر انضمام الحق نےبات کرتے ہوئے کہا کہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ پاکستان کے اتنے زیادہ کھلاریوں کو کو رونا پازیٹو کیسے آ گیا.

انضمام الحق نے اس بات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ایک سپورٹ مین کے اندر عام آدمی کی نسبت قوت مدافعت بہت زیادہ ہوتی ہےاور اس کی وجہ یہ ہے کہ کھلاڑیوں کی خوراک عام آدمیوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے اور

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی روز کی ورزش کا دورانیہ بہت زیادہ ہوت ہے اور ان کو اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی صحت اور خوراک کا بہت زیادہ دھیان رکھنا پڑتا ہے،

اسی وجہ سے ان کے اندر قوت مدافعت بہت زیادہ ہوتی ہے مگر پاکستان کرکٹ ٹیم کے اندر اتنے زیادہ کھلاڑیوں کا کو رونا پازیٹو آنا انضمام الحق کے لیے ایک بریکنگ نیوز ہے، اسی بریکنگ نیوز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے

انڈین میڈیا میں آسمان سر پر اٹھا لیا ہے اور وہ صبح سے لیکر کر شام تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے حفاظتی انتظامات پر مذاق کر رہا ہے، یہ بات ہم نہیں کہ رہے ہیں بلکہ آپ انضمام الحق کے یو ٹیوب چینل پر جا کر

ان کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں جس میں انھوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کو رونا کے حوالے سے یہ رویہ ہماری جگ ہنسائی کا سبب بنا ہے اور خاص جو معاملہ محمّد حفیظ کے ساتھ ہوا ہے اس نے

جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، انضمام الحق کے نزدیک اس سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی اور زیادہ جگ ہنسائی ہوئی اور اسی رپورٹ کو انڈین میڈیا مصالحے لگا لگا کر بار بار بریکنگ نیوز بنا کر انٹرنیشنل میڈیا میں دکھا رہا ہے

انضمام الحق نے کہا کہ محمّد حفیظ کا اگر کو رونا نیگیٹو آ ہی گیا تھا تو پھر اس کو بورڈ کی میڈیکل یونٹ سے بات کرنی چاہیے تھی نہ کہ اپنی رپورٹ کی اس طرح تشہر کرنی چاہے تھی،

انضمام الحق کے نزدیک پہلے تو کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کے کو رونا پازیٹو کی رپورٹ کو اچھے طریقے سے ترتیب نہیں دیا یعنی کہ ان کو چاہے تھا کہ وہ اس کو کسی خاص طریقے سے میڈیا پر بتاتے مگر

محمّد حفیظ کی حرکت نے رہی سہی کسر نکال دی، سب سے اھم بات یہ ہے کہ شاید ہی پوری دنیا میں کسی بھی کرکٹ بورڈ کے اندر اتنے زیادہ کھلاڑی کو رونا پازیٹو ہوئے ہوں جتنے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہوئے ہیں

لہذا ہمارے لیے یہ بھی شرم کی بات ہے کہ ہم نے اپنے کھلاڑیوں کو اچھے طریقے سے کورونا سے بچاؤ کیلیے حفاظتی تدابیر نہیں بتائیں اور اس کے اوپر سب بڑی غلط بات یہ کہ جن کھلاڑیوں کو کو رونا ہو گیا ہے

ان کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے گھروں میں بھیج دیا گیا جوکہ انتہائی غلط بات ہے اور کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آتی، جتنے بھی کھلاڑی کو رونا پازیٹو ہوئے ہیں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا اثاثہ ہیں اور

ان کی حفاظت کرکٹ بورڈ کا فرض ہے مگر اس طرح کی اقدامات سے لگتا ہے کہ کرکٹ بورڈ کو کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا ہے چاہے جتنے مرضی کھلاڑی کو رونا پازیٹو ہو جائیں

اور ان جیسی خبروں کو لیکر انڈیا میڈیا ہمارا مذاق بنا رہا ہے، خاص کر جب محمّد حفیظ نے اپنی کو رونا نیگیٹو کی رپورٹ کو اپنے ٹویٹر پر لگایا تو اس وقت انڈین میڈیا کی چاندی ہو گئی اور

انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے کو رونا ٹیسٹ معیاری نہیں ہیں اسی لیے ان کے کھلاڑی پرائیویٹ لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں