انضمام الحق نےپی سی بی کےمیڈیکل یونٹ کوکھری کھری سنا دی

13

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ بورڈ جو مسلہ سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہا ہے یقینا وہ کو رونا وائرس کو لے کر ہو رہا ہے اور اسی حوالے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز اور سابق کوچ انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل یونٹ کو کھری کھری سنا دیں ہیں،

انضمام الحق کا کہنا ہےکہ اگر ہم بات کریں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی جن کا کو رونا ٹیسٹ پازیٹو آ گیا ہےتو وہ کہتے ہیں کہ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ وہ کس طرح کو رونا پازیٹو ہو گئے ہیں،

انضمام الحق نےکہا کہ میں بھی ایک سپورٹس مین رہ چکا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ ایک کھلاڑی کس قدر مضبوط ہوتا ہےاور اس کا امیون سسٹم کس قدر توانا ہوتا ہے

انضمام الحق کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان ٹیم کے اندر 10 کھلاڑیوں کو کو رونا ہو گیا ہے کہ تو پھر عام آدمی کدھر جائےگا، انہوں نےمزید کہا کہ اس میں سرا سر میڈیکل یونٹ کی غفلت شامل ہے کیونکہ

ایک کھلاڑی کا امیون سسٹم اس قدر کمزور نہیں ہو سکتا ہے کہ کو رونا وائرس جیسا جراثیم ایک کرکٹ کے کھلاڑی پر اثرانداز کرجائے، اور اگر یہ واقعی سچ کہ ہمارے کھلاڑی اتنے کمزور ہیں تو پھر میں

اس کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہ سکتا، انضمام الحق نے مزید کہا کہ یہی نہیں بلکہ کوئی اور بیماری ایک کرکٹر یا کسی بھی دوسرےسپورٹ کے کھلاڑی کو ویسے نہیں لگ سکتی ہے جیسےکسی عام آدمی کو لگتی ہے، اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ

اچھی خوراک اور زیادہ سے زیادہ ورزش کرنے کی وجہ سے وہ عام آدمی سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، لہذا مجھے اسی چیز نے پریشان کیا ہے کہ اگر ہمارے کھلاڑیوں کو بھی کو رونا وائرس ہوگیا ہے تو پھر عام آدمی کا کیا بنے گا

اس کے بعد جو سب سے بڑا اعتراض انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل یونٹ اور کرکٹ بورڈ کو بھی دیا ہےوہ یہ ہے کہ جس حس کھلاڑی کا کو رونا پازیٹو آیا ہو ہر اس کھلاڑی کو بورڈ نے اس کے گھر بھیج دیا ہے،

انضی بھائی کا کہنا تھا کہ میڈیکل یونٹ کو یہ کام نہیں کر نا چاہے تھا بلکہ ان کے لیے الگ سے کوئی انتظام کر کے بورڈ کو ان تمام کھلاڑیوں کو اپنی نگہداشت میں رکھنا چاہے تھا

کیونکہ جب کسی بھی آدمی کو کرونا پازیٹو ہو جاتا ہے تو اس کے لیے خاص قسم کی خوراک کا بندوبست کیا جاتا ہے اس بندے کی ٹریٹمنٹ بلکل مختلف طریقے سے کی جاتی ہے اور اس کا خیال دوسرے مریضوں سےہٹ کر رکھا جاتا ہے اور

سب سے بڑی بات کہ اس کو سب سے الگ کر رکے رکھا جاتا ہے، اور اس حوالے سے انضی بھائی کے خیال میں کرکٹ بورڈ کواپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کا ذمہ خود لینا چاہے تھا تاکہ وہ

تمام پلیر جلد از جلد ٹھیک ہوتے تاکہ ان کو جلد از جلد سیریز میں واپس انگلینڈ بھیج سکتے مگر افسوس کہ کرکٹ بورڈ اور اس کے میڈیکل یونٹ کی طرف سے ایسا کھچ بھی نہیں ہوا ہے جوکہ پریشان کن ہے