”2005ءمیں میری کپتانی کیخلاف سازش ہوئی“ یہ سازش کس نے کی اور پھر کیا ہوا؟ انضمام الحق نے انکشاف کردیا،

107

کرکٹ سے جڑی ہرخبر اور زبردست ویڈیوز کے لیے ہمارا پیج لایک کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق نے 2005ءمیں اپنی کپتانی کیخلاف ہونے والی سازش سے پردہ اٹھا دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ مذ کورہ سال میں دورہ بھارت کے دوران


تفصیلات کے مطابق انضمام الحق نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں انکشاف کیا کہ 2005ء میں کچھ کھلاڑیوں نے مجھے قیادت سے ہٹانے کیلئے سازش رچائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس ٹور میں کمزور ترین ٹیم کا ساتھ حاصل رہا کیونکہ کچھ اہم پلیئرز نے جانے سے انکار کردیا تھا اور ان کا خیال تھا کہ اس سیریز میں ناکامی پر مجھے کپتانی سے ہٹا دیا جائے گا جس کے بعد انہیں یہ ذمہ داری سنبھالنے کا موقع میسر آ جائے گا۔

انضمام الحق نے اسی ٹور میں کھیلے گئے بنگلور ٹیسٹ کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی کوچ باب وولمر دوسری اننگز جلد ڈکلیئر کرنے کے فیصلے سے خوش نہیں تھے مگر میں نے انہیں غلط ثابت کیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بنگلور ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں یونس خان کی ڈبل سنچری اور انضمام کی سنچری کی بدولت 570 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں بھارتی ٹیم 449 رنز پر آﺅٹ ہو گئی اور پھر گرین شرٹس نے دوسری اننگز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 261 رنز بنانے کے بعد اننگز ڈکلیئر کر دی تھی۔


انضمام نے کہاکہ میں نے وولمر کو پیغام بھیجا کہ میں اننگز ڈکلیئر کرنا چاہتا ہوں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کپتان اور نائب کو مل کر فیصلہ کرنا چاہیے، میں نے یونس سے کہا تو وہ راضی ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں اننگز ڈکلیئر کر کے پویلین میں واپس آیا تو ہیڈ کوچ نے کہا کہ میرے خیال میں آپ کا فیصلہ غلط ہوسکتا ہے، مگر میرا خیال تھا کہ اگر ہم سہواگ کو جلد آﺅٹ کرتے ہیں تو میزبان ٹیم دباﺅ میں آ جائے گی،

اگلے روز جب عبدالرزاق نے سہواگ کو رن آﺅٹ کیا تو میں نے سوچا کہ اگر رزاق کسی کو رن آﺅٹ کرسکتا ہے تو پھر یہ ہمارا دن ہے، میرا اننگز جلد ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور ہم وہ میچ جیت گئے، میرا 100 واں ٹیسٹ میرے لئے بہت ہی یادگار تھا۔