فاسٹ بولر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے

65

قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے تاہم وہ پاکستان کے لیے ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔

محمد عامر:
فاسٹ بولر محمد عامر کاکہنا ہے کہ کرکٹ کے روایتی فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز تھا ۔ میں آج طویل طرز کی کرکٹ سے علیحدگی اختیار کررہا ہوں تاہم میں پاکستان کے لیے محدود اوورز کی کرکٹ کھیلتا رہوں گا۔

محمد عامر نے کہا کہ میرا اصل مقصد پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنا ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں آئندہ میچز اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں شرکت کے لیے اپنی فارم اور فٹنس برقراررکھوں۔

فاسٹ بولر نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا تاہم میں اس بارے میں کافی عرصے سے سوچ رہا تھا۔
میں آج ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہوں تاکہ سلیکٹرز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لیے نوجوان فاسٹ بولرز کو قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ دے سکیں۔

محمد عامر کاکہنا ہے کہ میں اس موقع پر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ٹیم ممبرز اور حریف کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں اپنے حلیف اور حریف کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کو اعزاز سمجھتا ہوں۔مجھے امید ہےکہ ہم اسی عزم اور حوصلے کیساتھ مختصر دورانیے کی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔

فاسٹ بولر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے مجھے اپنے سینے پر گولڈن اسٹار لوگو لگانے کا موقع دیا، میں پی سی بی کوچز کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے کیرئیر کے مختلف مراحل میں میری مدد کی۔

وسیم خان، ایم ڈی پی سی بی:
اس موقع پر ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ محمد عامرکا شمار موجودہ دور کے بہترین ٹیسٹ فاسٹ بولرز میں ہوتا ہے۔ بطور نوجوان کرکٹرمحمدعامر مشکلات کو دور کرکے بہتر کرکٹر اور انسان بنے۔قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیمگراونڈ اور ڈریسنگ روم میں محمد عامر کیکمی محسوس کرے گی۔

وسیم خان کاکہنا ہے کہ ہم محمد عامر کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، امید ہے محمد عامر محدود اوورز کی کرکٹ میں اپنا اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔
محمد عامر نے سال 2009ء جولائی میں سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ میچ سے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔محمد عامر نے 36 ٹیسٹ میچوں میں 30 کی اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کی۔محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین بولنگ ویسٹ انڈیز کے خلاف سال 2017ء اپریل میں کنگسٹن کے میدان میں 44 رنز کے عوض 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا تھ