ٹیسٹ ٹیم کا کپتان کون ہو گا جلد فیصلے کا امکان

94

ٹیسٹ ٹیم کا کپتان کون ہو گا جلد فیصلے کا امکان

رواں ماہ کے آخر میں کرکٹ کمیٹی کے اجلاس اور اس کے نتیجے میں سامنے آنیوالی ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں اور ذرائع کا دعوی ہے کہ قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کیلئے تجربہ کار بیٹسمین اسد شفیق اور شان مسعود فیورٹ امیدوار بن کر سامنے آگئے ہیں جسکا مطلب ہے کہ سرفراز احمد کو مستقبل قریب میں صرف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ میں قیادت کا موقع مل سکے گا جن کیساتھ نائب کپتانوں کا تقرر کر کے مستقبل کیلئے کپتانی کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمیٹی کے اراکین نے پاکستان کرکٹ کے مستقبل کا پلان تیار کرلیا ہے جسکے تحت تینوں فارمیٹس کے کپتانوں کے علاوہ ٹیم انتظامیہ میں موثر افراد کی تقرری پر غور کیا جا رہا ہے۔

پی سی بی کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ بات خارج از امکان نہیں کہ موجودہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے معاہدے میں آئندہ برس ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ تک توسیع کردی جائے تاہم ایسا نہیں ہو سکا تو پھر سابق زمبابوین کپتان اینڈی فلاور کی خدمات حاصل کی جائیں گی جبکہ ویسٹ انڈیز کے سابق عظیم بیٹسمین سر ویوین رچرڈز کا نام بھی زیر غور ہے جو پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلئے خدمات کی انجام دہی کرتے رہے ہیں اور ان کی اکثر پاکستانی کھلاڑیوں کیساتھ بہترین ذہنی ہم آہنگی ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان سے رابطہ کیا گیا ہے اور مستقبل قریب میں انہیں پاکستانی ٹیم کا ہیڈ کوچ یا پھر بیٹنگ کوچ بھی مقرر کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 27 جولائی کو پاکستان واپس آنیوالے مکی آرتھر چیئرمین پی سی بی احسان مانی سے ملاقات کے بعد کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں اپنی3 سالہ کارکردگی سے متعلق پریزنٹیشن دینا چاہتے ہیں جسکے بعد اس بات کا فیصلہ ہو سکے گا کہ ہیڈ کوچ کے عہدے کیلئے کس کو قابل غور سمجھا جائیگا۔ذرائع کے مطابق بیٹنگ کوچ کے عہدے کیلئے مصباح الحق،یونس خان اور انضمام الحق کے نام بھی اہمیت کے حامل ہیں جبکہ بالرز کی کوچنگ کیلئے مشتاق احمد یا عاقب جاوید کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں تاہم فیلڈنگ کوچ کیلئے کسی غیر ملکی ماہر پر انحصار کیا جائے گا اور چیف سلیکٹر کیلئے متوقع امیدوار محسن خان منیجر کا عہدہ بھی سنبھال سکتے ہیں